ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انسداد گؤ کشی قانون کا نفاذ،بی بی ایم پی کو حاصل کروڑوں کی آمدنی بند ہو جائے گی

انسداد گؤ کشی قانون کا نفاذ،بی بی ایم پی کو حاصل کروڑوں کی آمدنی بند ہو جائے گی

Fri, 01 Jan 2021 21:56:30    S.O. News Service

بنگلورو،یکم جنوری(ایس او نیوز) ریاست میں اگر انسداد گؤ کشی قانون جاری کیا گیا تو بروہت بنگلور مہا نگر پا لیکے(بی بی ایم پی) کی آمدنی پر بھی بھاری اثر پڑ سکتا ہے۔

بی بی ایم پی افسروں کے مطابق اگر یہ قانون نافذ کیا گیا تو بی بی ایم پی کے خزانہ میں فیس کے طور پر جمع ہو نے والی کروڑوں کی رقم رک جا ئے گی۔حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعہ انسداد گؤ کشی قانون جاری کر نے کی پوری تیاریاں کی جا رہی ہیں اگر یہ قانون مکمل طورپر نافذہوا تو بی بی ایم پی کے لئے محکمہ مویشی پا لن سے سا لانہ3تا5کروڑ کی آمدنی بند ہو جا ئے گی۔

شہر کے حدود میں با ضا بطہ طور پر ٹیا نری روڈ،ڈی جے ہلی،شیواجی نگر،کے آر مارکیٹ میں موجود ذبح قانون میں ذبح کئے جانے والے جانوروں کی طبی جانچ،معیار کی جانچ کی ذمہ داری ویٹر نری ڈاکٹر نبھا تے ہیں۔بتا یا جا تا ہے کہ ذبح کے لئے لانے والے جانوروں کی داخلہ فیس اور ذبح کے لئے مقرر فیس وصول کر نے کے حق کے لئے ای۔ ٹنڈر کے ذرریعہ کنٹراکٹ دیا جاتا ہے،اور اسکے ذریعہ بی بی ایم پی کو ماہانہ 25تا30لاکھ روپئے آمدنی حاصل ہو تی ہے جو آئندہ حاصل نہیں ہوگی۔

کر ناٹک منسپل ایکٹ1976کے تحت شہری علاقہ میں گائے،بیل کو بی بی ایم پی کے لائنسس کے بغیر ذبح نہیں کیا جا سکتا اسکی خلاف ورزی کر نے والوں پر مقامی بی بی ایم پی افسران جر مانہ عائد کر نے لگے تھے،اب یہ آمدنی بھی ہاتھ سے نکل جا ئے گی۔

بی بی ایم پی ذرائع نے بتا یا کہ مذکورہ قانون میں ما حو لیات کو دھکہ نہ پہنچانے اور جانوروں کے فضلہ کی بھی مناسب نکاسی کی ہدایت دی گئی ہے اور اگر اسکی خلاف ورزی کی گئی تو مارشلز کے ذریعہ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور یہ آمدنی بھی بند ہو سکتی ہے۔

اس سلسلہ میں بی بی ایم پی کے اسپیشل کمشنر ڈی رندیپ نے بتا یا کہ بی بی ایم پی کو ذبح خانوں سے آمدنی حاصل ہوا کر تی ہے،اگرانسداد گؤ کشی قانون نافذ ہوا تواسکے ضوابطہ پر عمل ضروری ہے،جس کی وجہ سے بی بی ایم پی کو ہو نے والی آمدنی بند ہو جا ئے گی۔

ذرائع کے مطابق بی بی ایم پی کی2018-19سال کی رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں 55,052بیل،1,268بھینس ذبح کئے گئے ہیں۔


Share: